پاکستانی سائنسدان نے صرف 5 منٹ میں کورونا وائرس کی درست تشخیص کرنے والی کٹ تیار کر لی

پاکستانی سائنسدان نے صرف 5 منٹ میں کورونا وائرس کی درست تشخیص کرنے والی کٹ تیار کر لی

امریکہ میں مقیم این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی سے تعلیم یافتہ سائنسدان جمیل شیخ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے
پاکستانی سائنسدان نے صرف 5 منٹ میں کورونا وائرس کی درست تشخیص کرنے والی کٹ تیار کر لی۔ امریکہ میں مقیم این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی سے تعلیم یافتہ سائنسدان جمیل شیخ کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ میں مقیم پاکستانی سائنسدان نے محض پانچ منٹ میں کورونا وائرس کی درست تشخیص کرنے والی ڈیوائس ایجاد کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں محض پانچ منٹ میں کورونا وائرس کا بالکل درست ٹیسٹ کرنے والے پورٹ ایبل ٹیسٹنگ ڈیوائس کا ماسٹر مائنڈ ایک پاکستانی سائنسدان ہے جس کا نام جمیل شیخ ہے۔ امریکہ کی ڈیوائسز اور ہیلتھ کیئر کمپنی ایبٹ لیبارٹریز کے مطابق امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ایف ڈی اے نے اس بات کی ہنگامی طور پر اجازت دے دی ہے کہ اگلے ہفتے سے ہی ہیلتھ کیئر کے عملے کو ٹیسٹ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔
کمپنی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹ صرف 13 منٹ کے اندر منفی نتائج ظاہر کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ بالا ڈیوائس ایجاد کرنے والے سائنسدان کا نام جمیل شیخ ہے جو کہ ایک پاکستانی ہیں۔ جمیل شیخ کا تعلق صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے ہے اور وہ این اے ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی کے فارغ التحصیل طالب علم ہیں۔
جمیل شیخ اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں جہاں انہوں نے کورونا کا ٹیسٹ کرنے والی پورٹ ایبل ڈیوائس تیار کی ہے جو کہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ مزید تفصیلات کے مطابق امریکہ میں ایبٹ لیبارٹریز نے ایک ایسا ٹیسٹ متعارف کروایا ہے جو کہ صرف پانچ منٹ میں نئے کورونا وائرس کی شناخت کر سکتا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی نے بتایا ہے کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ایف ڈی اینے ہنگامی بنیادوں پر اس ٹیسٹ کی منظوری دے دی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اب وسیع پیمانے پر اس ٹیسٹ کی تیاری کا مرحلہ شروع ہو گا تاکہ آئندہ ہفتے تک یہ متعلقہ محکموں کو پہنچایا جا سکے۔
یڈیا رپورٹس کے مطابق اس ٹیسٹ کٹ کی ایجاد کا سہرا پاکستانی سائنسدان جمیل شیخ کے سر ہے جن کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ واضح رہے کہ اس ٹیسٹ کی ایف ڈی اے نے صرف ہنگامی صورت حال میں اور صرف مخصوص لیبارٹریز اور صحت عامہ سے متعلق محکموں کو استعمال کی اجازت دی ہے۔ فی الحال یہ ٹیسٹ عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔

پاکستانی سائنسدان

COMMENTS